mudasir saghri

mudasir saghriمحبت سے حسیں تر اس جہاں میں اور کیا ہو گا جو ہو گا ، وہ محبت کے نہیں کچھ بھی سوا ہو گا جہاں والے محبت کو فسانہ ہی سمجھتے ہیں نہ جانے کب زمانے پر بھلا یہ راز وا ہو گا جو ہیں اہلِ جنوں واقف ہیں اسرارِ محبت سے بھلا اہلِ خرد پر راز کیوں کر یہ کھلا ہو گا نہ مرنے کا ہے غم مجھ کو ، نہ جینے کی تمنا ہے عجب اک بے قراری ہے نہ جانے آگے کیا ہو گا نہ چکر میں تو پڑ اس کے کہ یوں ہو گا تو کیا ہوگا ؟ ارے ہو گا وہی آخر ، جو منظورِ خدا ہوگا ہمیں تو ہے یقیں کامل ترے اقرارِ الفت کا کیا تھا تو نے جو وعدہ کبھی تو وہ وفا ہو گا یہی اعجازِ الفت ہے ذرا سن غور سے ذیشان یہ جذبہ ہے وہ جذبہ جو نہ ہرگز پھر فنا ہو گا