★▶◀piyar♕♕

★▶◀piyar♕♕غزل محبت کی سنانے میں دیر لگتی ہے کنول وفا کا کھلانے میں دیر لگتی ہے وفا کا دیپک جلانے میں دیر لگتی ہے کبھی کسی کا ہو جانے میں دیر لگتی ہے غبار دل کا مٹانے میں دیر لگتی ہے خطا کسی کی بھلانے میں دیر لگتی ہے وفا زمانے میں نایاب ہے گنوانا مت فلک سے چاند کو لانے میں دیر لگتی ہے خیال ِ جاں میں پھرے دربدر مسافر کو کبھی کبھی گھر کو آنے میں دیر لگتی ہے وہ ہنس کے غم ِ زندگی ہم کو اب سناتا ہے ہنر یہ دل کو سیکھانے میں دیر لگتی ہے ہے انتطار ِ سحر میں رات ِ زندگی ہر دم فلک پہ سورج کو آنے میں دیر لگتی ہے فراق ِ جاناں میں صدیوں یہ زندگی گزری کہ غم ِ محبت مٹانے میں دیر لگتی ہے وفا کا اعجاز خود کو مٹا کے نکھرے ہیں جہاں میں جیون سجانے میں دیر لگتی ہے 03336985564